ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 16سال بعد گلزار وانی کی باعزت رہائی قانون و انصاف کی جیت اور متعصب افسران کے منہ پر طمانچہ

16سال بعد گلزار وانی کی باعزت رہائی قانون و انصاف کی جیت اور متعصب افسران کے منہ پر طمانچہ

Sun, 21 May 2017 11:33:36    S.O. News Service

مسلمانوں کےتعلق سےقومی میڈیاکا دوہرا رویہ انتہائی تشویشناک،گرفتاریوں کا ڈھنڈھورا لیکن باعزت رہائی کا کوئی ذکر نہیں : مولانا مدنی
نئی دہلی،20؍مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) گذشتہ16؍ سالوں سے زائدعرصہ سے سابرمتی ٹرین بم دھماکہ معاملہ میں جیل میں مقید علیگڑھ مسلم یونیوسٹی کے پی ایچ ڈی کے ایک نہایت ذہین طالب علم گلزار وانی کوآج بالآخر بارہ بنکی کی خصوصی عدالت نے ثبوتوں کی عدم موجودگی کے سبب دہشت گردی کے الزامات سے بری کردیا۔ گلزار وانی پر مزید 10مقدمات اور قائم کئے گئے تھے جس میں عدالت نے انہیں پہلے ہی بری کر دیا تھا اور آج گیارہویں مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے بارہ بنکی کی خصوصی عدالت نے گلزار وانی کوبا عزت بری کر دیا ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اخبارنویسوں کو دی جنہوں نے ملزم کو نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک قانونی امداد فراہم کی تھی ۔ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے گلزار وانی کے لوور کورٹ سے۱۶ سال بعد باعزت بری ہونے کے فیصلہ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کام جو حکومتوں کا تھا اسے عدالتیں کر رہی ہیں۔مولانا مدنی نے کہا کہ یہ فیصلہ فرقہ پرست اور متعصب ایجنسیوں کے منہ پر طمانچہ ہے اور قانون و انصاف کی جیت ہے۔انہوں نے اس موقع پر یہ سوال بھی اٹھایا کہ عدالت کے فیصلے کے مطابق جب یہ مجرم نہیں ہیں تو پھر اصل گنہگارکہا ں ہیں؟ مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کی سلامتی کے لئے اصل گنہگاروں اور متعصب افسران کے خلاف کاروائی ضروری ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ ایک طرف تو این آئی اے اور دیگر تفتیشی ایجنسیاں موجودہ حکومت کے دباؤ میں بھگوا دہشت گردی میں ملوث کرنل پروہت ،پرگیا ٹھاکر اور سوامی اسیمانند جیسے ملزمان کوکلین چٹ دینے کی کوشش میں مصروف ہے، وہیں دوسری جانب عدالتیں بے گناہ افراد کو باعزت بری کرکے فرقہ پرست طاقتوں اور ان کے دباؤ میں کام کرنے والی ایجنسیوں کو باور کرارہی ہیں کہ وہ جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر بے قصورلوگوں کی زندگیاں برباد کرنے سے باز آئیں۔انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ جب تک خاطی انتظامیہ اور متعصب پولس افسران کو ان کے کرتوتوں کی سزا نہیں ملتی تب تک انصاف مکمل نہیں ہوسکتا ۔مولانا مدنی نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اکثر میڈیا خاص طور سے الیکٹرانک میڈیا دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کئے گئے مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کو انتہائی اہم اور بڑی خبر بناکر صبح سے شام تک اسی کا ڈھنڈھورا پیٹتا رہتا ہے اور جج بن کرکے یہ فیصلہ دیتا ہے کہ یہ دہشت گرد ہیں۔لیکن جب یہی نوجوان عدالت سے باعزت بری کئے جاتے ہیں تو اکثر میڈیا کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور اس کی رہائی کی خبر کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ میڈیا کا ایک بڑا حصہ کس طرح سے فسطائی طاقتوں کی سوچ اور نظریے کے زیر اثر ہے۔اس کا مقصد بھی صرف مسلمانوں کی امیج کو خراب کرنا ہی رہ گیاہے۔واضح رہے کہ ۱۴؍ ستمبر ۲۰۰۰ کو ریلوے اسٹیشن روز گاؤں (یو پی) پر کھڑی ٹرین نمبر ۹۱۶۶ (سابرمتی ایکسپریس) میں بم دھماکہ ہوا تھا جس کی وجہ سے سیکڑوں مسافروں کو شدید چوٹیں آئیں تھیں جس کے بعدپولس نے نا معلوم لوگوں کے خلاف ’’زیرو ایف آئی آر‘‘ نمبر 148/2000درج کی تھی اور تحقیقات شروع کی تھی۔دوران تفتیش پولس نے چار ملزمین کو گرفتار کیا تھا جس میں گلزار وانی بھی شامل تھا ۔ گلزار وانی علی گڑھ یونیورسیٹی کا ایک ہونہار طالب علم تھا آج اس کا مستقبل تاریک دیکھائی دے رہا ہے عدالتوں کو اس بات کا بھی نوٹس لیکر ہرجانہ دلانے کا بند و بست کر نا چاہئے۔


Share: